کشمیر میں عام لوگ بھی اب دہشت گردوں کی خبریں دے رہے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے

203
جنرل ڈی پی پانڈے

ہندوستانی فوج کی 15 کور (چنار کور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے آج کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمے اور صورتحال کو معمول پر لانے کی طرف پیش قدمی کرنے کی ہماری حکمت عملی بہت واضح ہے اور اس کا اثر بھی دکھائی دینے لگاہے۔ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں بادامی باغ چھاو¿نی میں واقع کور ہیڈ کوارٹر میں رکشک نیوز کے ساتھ ایک مختصر گفتگو میں لیفٹیننٹ جنرل پانڈے نے کشمیر میں دہشت گردی اور سیکیورٹی فورسز سے متعلق کچھ پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کیا۔ سیکیورٹی امور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے چار ماہ قبل ہی ہندوستانی فوج ، شمالی کمانڈ کی 15 ویں کور کی کمان سنبھالی ہے ، جو اپنے زیر کنٹرول علاقے میں دہشت گردی سے متعلق زیادہ سے زیادہ سرگرمیاں دیکھ رہا ہے۔

چنار کور کے کمانڈنگ آفیسر ڈی پی پانڈے نے واضح طور پر کہا کہ “وائٹ کالر” (سفید پوش) دہشت گردوں کو نشانہ بنانا ہماری پہلی ترجیح ہے جس پر فوج اور سکیورٹی فورسز کام کر رہی ہیں۔ وائٹ کالر دہشت گردوں سے ان کا مطلب وہ لوگ تھے جو پردے کے پیچھے رہ کر دہشت گردوں کی مددکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کی مدد کرنے والے اب بے نقاب ہو گئے ہیں۔ اور ان کی اصلیت یہاں کے لوگوں کے سامنے آچکی ہے۔

جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور دراندازی سے نمٹنے کا تجربہ رکھنے والے 57 سالہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے یہاں کی صورتحال میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تبدیلی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پتھراو¿ کے واقعات رک چکے ہیں۔ نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے حوصلے ہی نہیںبڑھے بلکہ مقامی انتظامیہ میں بھی اس مثبت تبدیلی کو محسوس کیا جارہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل پانڈے کا کہنا ہے کہ اب لوگ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف زیادہ آواز اٹھارہے ہیں۔ صرف یہی نہیں ، اب صورتحال بھی ایسی ہے کہ اب عام لوگ ہمیں دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کررہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے کا دعوی ہے کہ فوج کو جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کو ہونے والے جانی نقصان میں کمی آئی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل پانڈے ان بدلے ہوئے حالات کو فوج اور سیکیورٹی فورسز کے لئے حوصلہ بڑھانے والاقدم سمجھتے ہیں۔

کون ہیں لیفٹیننٹ جنرل پانڈے :

Lt Gen D P Pandey
لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے سنجے وہرا کے ساتھ (ایڈیٹر ، rakshaknews.in)

دسمبر 1985 میں لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے ہندوستانی فوج کے سکھ لائٹ انفنٹری کی نویں بٹالین میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ ان کا تعلق اتر پردیش کے گورکھپور سے ہے۔ ہندوستان کے مغربی حصے میں راجستھان اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں اپنے کام کے تجربے کے علاوہ انہوں نے کارگل میں آپریشن وجے میں بھی حصہ لیاتھا۔ بہت اونچائی والے پہاڑی علاقوں میں لڑنے کی تربیت حاصل کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل پانڈے کو سیاچن گلیشیر میں بھی تعینات کیا گیاتھا۔ وہ ملک و بیرون ملک بھی مختلف عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔ مدراس یونیورسٹی (چنئی) سے ڈیفنس اسٹڈیز میں پوسٹ گریجویٹ اور اندور کے دیوی اہلیہ یونیورسٹی سے ایم فل ان سیکیورٹی مینجمنٹ کر چکے لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے امریکہ کے واشنگٹن میں واقع نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور ویلنگٹن میں واقع ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج کے طالب علم بھی رہے ہیں۔

15 کور یعنی چنار کور:

ہندوستانی بری فوج کے شمالی کمان کی اس کور کا علاقہ وادی کشمیر ہے۔ انتہائی خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال وادی کشمیر تقریبا 30 سال سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے۔ اس علاقے میں چنار کے درختوں کی کثرت کی وجہ سے فوج کی اس 15 ویں کور کا نام چنار کور بھی کہا جاتا ہے ، جس کی علامتی نشان چنار کی پتی ہے۔ ہندوستان میں برطانوی دور حکومت کے دوران وجود میں آنے والی چنار کور 1916 میں معرضِ وجود میں آئی۔ یہ پہلی جنگ عظیم کے دورانکی بات ہے اور اس نے مصر اور فرانس میں جنگ لڑی ، لیکن 1918 میں اس کور کو ختم کردیا گیا۔ ایسا ہی دوسری جنگ عظیم کے دوران 1942 میں ہوا تھا جب اسے برما میں آپریشن کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل ، 1947 میں ، کراچی میں فوج کی 15 کور کو ختم کردیا گیا تھا ، لیکن آزاد ہندوستان میں اس کی تشکیل نو کردی گئی تھی۔ 1948 میں یہ جموں و کشمیر فورس بن گیا ، لیکن 1955 میں اپنی موجودہ شکل میں آنے سے پہلے اس میں بدلاو¿ ہوتے رہے۔ 1972 میں جب فوج نے جموں و کشمیر کے لئے ناردرن کمانڈ تشکیل دی تو تب15کور کا ہیڈ آفس سری نگر بنایا گیا تھا۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ بھی اس کاعلاقہ بن گیا۔ 1999 میں آپریشن وجے کے بعد صرف وادی کشمیر کا علاقہ اس کے زیر کنٹرول ہے۔

چنار کور نے پاکستان کے ساتھ ہوئی تمام جنگوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل بکرم سنگھ ، لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین اور جنرل سندرراجن پدمانابھن اس کے مقبول ترین کمانڈروں میں شامل ہیں۔